لکھنؤ،12؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) یوپی کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے خالی کئے بنگلے میں توڑ پھوڑ کو لے کر چل رہے تنازعہ کے درمیان ریاست کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت مایاوتی کے خالی کئے سرکاری بنگلے کو کانشی رام میموریل بنانے پر غور کر رہی ہے۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد مایاوتی نے 13-اے مال ایونیو کے اس سرکاری رہائش گاہ کو خالی کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ یوگی حکومت اسے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے بانی کانشی رام کا یادگاری اعلان کرے۔ریاست پراپرٹی محکمہ 13-اے مال ایونیو والے بنگلے کے رہائشی حصے کومانیور کانشی رام یادگار سائٹ کا مطالبہ والے حصے سے الگ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔پراپرٹی کے سیکشن کے پاس ہی ان بنگلوں کی نگرانی کا ذمہ ہے۔یوپی کے پراپرٹی افسر یوگیش شکلا نے ہمارے ساتھی ٹیوای سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بنگلے کے رہائشی حصے اور کانشی رام میموریل والے حصے کی الگ الگ شناخت ہوگی۔پراپرٹی کے سیکشن کے ذرائع کے مطابق کانشی رام میموریل کو 13-اے مال ایونیو پر بنایا گیا تھا، جوکہ پہلے چھڑی کمشنر کا دفتر تھا۔لیکن مایاوتی نے 2007 میں اقتدار میں آنے کے بعد چھڑی کمشنر کے دفتر کو تڑواکر آپ 13 مال ایونیو والے گھر سے اسے شامل کر دیا تھا۔
پراپرٹی محکمہ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ اب مکمل پراپرٹی 13-اے کے طورمیں تبدیل ہو چکی ہے۔پراپرٹی محکمہ اب 13-A اور 13 مال ایونیو کو پرانی پوزیشن میں لانا چاہتا ہے۔دو جون کو بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے 13-اے مال ایونیو کا اپنا سرکاری بنگلہ خالی کر دیا تھا۔اس دوران انہوں نے میڈیا کے لوگوں کو بنگلہ دکھاتے ہوئے کانشی رام میموریل کا دعوی کیاتھا۔ مایاوتی کے اس اقدام کو اپنی دلت شناخت اور پارٹی کے کور ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے مایاوتی نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک مخالفت خط بھیجتے ہوئے اپنی مدت کے دوران لئے گئے کابینہ کے فیصلے اور سرکاری احکامات کی جانکاری دی تھی۔اس میں کانشی رام میموریل پر لیا گیا فیصلہ بھی شامل تھا۔مایاوتی نے اس خط میں کانشی رام کی یادگار کی نگرانی کے لئے اپنے پارٹی کیڈر کو تعینات کرنے کی تجویز بھی رکھی تھی۔